تابع دار
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - مطیع، پابند، فرماں بردار، ملازم۔ "میں ہر طرح آپ کی تابع دار اور فرماں بردار ہوں۔" ( ١٩٢١ء، فغان اشرف، ١٠ )
اشتقاق
عربی زبان کے لفظ 'تابع' کے ساتھ 'داشتن' مصدر سے فعل امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٢٤ء کو "سیر عشرت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مطیع، پابند، فرماں بردار، ملازم۔ "میں ہر طرح آپ کی تابع دار اور فرماں بردار ہوں۔" ( ١٩٢١ء، فغان اشرف، ١٠ )